کامرس اینڈ انوسٹمنٹ وِنگ

صوبہ پنجاب قومی برآمدات میں 60 فیصد کا حصہ دار ہونے کے ناطے ایک اہم سٹیک ہولڈر کی حیثیت کا حامل ہے۔ اس حیثیت کے پیش نظریہ صوبائی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے جس کے نتیجہ میں صوبائی سطح پر پیدوارمیں اضافے، پیداواری عمل کی جدید کاری، پروکیورمنٹ پالیسیوں، مسابقتی قوانین، مصنوعات اور خدمات کی سٹینڈرائزیشن، کاروبار سے متعلقہ ریگولیٹری فریم ورک اور سرمایہ کاری و تجارت کے فروغ کے سلسلے میں با خبر منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کیلئے اعداد و شمار اکٹھا کرنا اور اُن کے موازنہ جیسے متعلقہ خدشات کو دور کرنا لازم و ملزوم ہو جاتا ہے-

صوبہ کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے اور وہ پالیسیاں جو وفاقی سطح پر بنائی جا سکتی ہیں جیسا کہ لیبر ریگولیشنز، ماحولیاتی معیارات، کوالٹی کنٹرول، صنعتی اور تجارتی پالیسیاں جو صوبائی افرادی قوت سے جزوی کارکردگی کا تقاضا کرتی ہیں، پروکیورمنٹ پالیسیاں، ہیلتھ سٹینڈرز وغیرہ جنہیں اب ڈبلیو ٹی اونظام کے مجموعی فریم ورک میں دیکھنے کی ضرورت ہے، پر عملدرآمد کیلئے اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے-

ڈبلیو ٹی او کے تجارتی قوانین /ریگولیٹری نظام کا اطلاق آہستہ آہستہ کاروباری سرگرمیوں کے ہر ممکنہ شعبے میں وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔جیسا کہ پہلے بیان کی جا چکا ہے کہ صوبائی حکومت ایک اہم سٹیک ہولڈر ہے اور قومی و بین الاقوامی کاروباری سطح پر مقابلہ جاتی کاروباری ماحول کے باعث نئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مزید محنت درکا ر ہے۔ 

پنجاب کو بہتر کاروباری ماحول پیدا کرنے اور صوبہ میں ایف ڈی آئیز کو ترغیب دینے کیلئے ایک مربوط لائحہ عمل اپنانا ہوگا تاکہ نئے تجارتی نظام اور مطالبات کے چیلنجز کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیاجا سکے۔ اس صدی کی بین الاقوامی تجارت میں سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہونے کے ناطے مقدار اور معیار کے لحاظ سے تجارت میں اپنے حصے کومزید  بڑھانے کیلئے اپنی تقابلی اور مسابقتی صلاحیتوں کو فائدہ اُٹھانے کی ضرور ت ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے جہ وفاقی سطح پر بھی پالیسی سازی میں فعال طور پر حصہ ڈالا جائے اور پالیسی حل کے علاوہ مؤثر عملدآمد سے فائدہ اُٹھانے کیلئے عملدرآمدگی کی پیروی کی جائے۔

حکومت مساوی شراکت داری جسے سرمایہ کاری کا ایک دلچسپ طریقہ کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیلئے وسیع عوامی اثاثوں اور مالی وسائل کے ارتکاب سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جوائنٹ ونچرز کے آغاز کا اِرادہ رکھتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی تجاویز کو پیشہ ورانہ طور پر دیکھا جائے۔ یہ منصوبہ ترقیاتی منصوبے کے مجموعی پالیسی فریم ورک ، وزیر اعلیٰ کے ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر کے مقصد پر مشتمل وژن 2020ء میں فٹ بیٹھتا ہے۔

امور:

وِنگ ہٰذا کے بنیادی امور ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

  • پنجاب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پنجاب میں تمام چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے معاملات کو حل کرنے کیلئے)

  • تجارتی تنظیموں اور ایسوسی ایشنوں (مثلاً پی ٹی ای اے، اے پی ٹی ایم اے وغیرہ)کی سہولت کاری اور مشاورت 

  • چیف منسٹر اور دیگر شراکت داروں کیساتھ چیمبرز /ایسوسی ایشن کے وفود کے اجلاس کا بندوست /انعقاد

  • پنجاب میں کاروباری ماحول میں بہتری کا منصوبہ (کاروبار کرنے میں آسانی)

  • اندرونی تجارت سے متعلقہ معاملات 

  • بورڈ آف انوسٹمنٹ (بی او آئی) اسلام آباد سے متعلقہ مسائل 

  • انفرادی سرمایہ کاری کی تجاویز 

  • پنجاب بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ(پی بی آئی ٹی) سے متعلقہ مسائل 

  • مختلف ممالک کے ساتھ باہمی سرمایہ کاری معاہدوں پر آراء 

  • سرمایہ کاری پالیسی کی تشکیل 

  • فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ اِن پاکستان سے متعلقہ مسائل /معاملات 

  • سپیشل ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز

  • متفرقات (سرمایہ کاری سے متعلقہ مسائل کے حوالے سے پی ایم /سی ایم کی ہدایات)