نرخ، وزن اور پیمانے

پاکستان کے معاشی حالات اور اشیائے ضروریہ کے نرخ

پاکستان 242 ملین افراد کے ساتھ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک اور دنیا کی دوسری بڑی اسلامی ریاست ہے- پاکستان آٹھ لاکھ اکیاسی ہزار نو سو تیرہ مربع کلومیٹر(3لاکھ 40 ہزار 509 مربع میل) کے رقبہ کے ساتھ دنیا کا تینتیسواں بڑا ملک ہے- اتنی بڑی آبادی کے ساتھ خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے درآمدات پر منحصر کرنا پڑتا ہے-  اندرون ملک خوراک کی طلب کو پورا کرنے کیلئے گنا، گندم، پام آئل اور اجناس وغیرہ برآمد کئے جاتے ہیں-

تمام اشیائے خوردونوش کے درآمدی بل میں اس سال کے پہلے دو مہینوں کے دوران قدر اور مقدار میں اضافہ ہوا، جو ملکی پیداوار میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے-  فوڈ گروپ کی درآمد میں بنیادی حصہ گندم ، گنا، خوردنی تیل، مصالحہ جات، چائے اور دالوں کا ہے-  خوردنی تیل کی درآمد میں مقدار ، قدر اور فی قدر کی شرائط میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے-

حکومت لوگوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات کی ارزاں اور مناسب قیمتوں پر دستیابی اور اس حوالے سے مارکیٹ میں مختلف اشیائے خوردونوش کی پیداوار اور سپلائی کی شفاف اور منصفانہ پالیسی ترتیب دینے کی ذمہ دا ر ہے-  بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندروزی وغیرہ پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ قیمتوں کی مناسب شرح کو برقرار رکھا جائے اور حکومت اجارہ داری کے رجحان کے بغیر ایک شفاف تقابلی ماحول کو یقینی بنائے تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ جا سکیں- چونکہ قیمتوں کا کنٹرول مارکیٹ میں مختلف اشیاء کی پیدوار اور رسد پر منحصر ہوتا ہے لہذا یہ محض انتظامی معاملہ نہیں ہے جس سے قانونی مشینری کے ذریعے نمٹا جائے۔ بلکہ دیگر کئی عوامل بھی مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اوریہ عوامل حکومت کے خصوصی اختیار میں نہیں ہیں- اس لئے طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کیلئے پیداوار میں اضافہ کے بغیر مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قانونی مشینری کا استعمال کوئی اہمیت نہیں رکھتا-

رپورٹس